نئی دہلی، 12؍نومبر(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )جے این یو کے لاپتہ طالب علم نجیب احمد کے معاملے کی جانچ دہلی پولیس کی کرائم برانچ کرے گی تاکہ اس معاملے پرنئے سرے سے غور کیا جائے۔پولیس(جنوب مشرقی) کے جوائنٹ کمشنر آر پی اپادھیائے نے کہا کہ اس سلسلے میں فیصلہ کل آیا تھا۔ایک دیگر سینئر افسر نے کہاکہ نجیب کی والدہ نے کچھ دن پہلے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کی تھی اور معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کی درخواست کی تھی۔معاملے کے مختلف زاویے سے دیکھنے اور ثبوتوں پر پھر سے نظر ڈالنے کے لیے معاملہ کو جنوبی ضلع سے کل کرائم برانچ منتقل کر دیا گیاہے ۔وزیر داخلہ کی طرف سے دہلی کے پولیس کمشنر آلوک کمار ورما کو ہدایت دیئے جانے کے بعد نجیب کا پتہ لگانے کے لیے گزشتہ ماہ ایس آئی ٹی کی تشکیل کی گئی تھی ۔نجیب 15؍اکتوبر کو لاپتہ ہو گیا تھا، اس اس سے ایک رات پہلے اے بی وی پی کے ارکان نے ا س کے ساتھ مبینہ طورپر مارپیٹ کی تھی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(جنوبی دہلی )منیش چندر کی قیادت میں ایس آئی ٹی اس معاملے میں کوئی ایسا ثبوت نہیں جٹا پائی جس کی بنیاد پر کوئی کارروائی کی جا سکے۔وم ہنس میں ایک ڈاکٹر نے پولیس کے سامنے دعوی کیا تھا کہ نجیب ابسیسو کمپلسیو ڈس آرڈر(اوسی ڈی)اور ڈپریشن کا شکار تھا جس کے بعد سے ایس آئی ٹی نجیب کے معاملے پر نئے سرے سے غور کر رہی تھی۔اس کے بعد تحقیقات میں نفسیات سے متعلق پہلو اہم ہو گیا تھا۔ایس آئی ٹی معاملے میں تحقیقات کا منصوبہ تیار کرنے کے لیے ایمس اور رام منوہر لوہیا اسپتا ل کے ماہر نفسیات کی مدد لینے پر غور کر رہی ہے۔